انہوں نے کہا کہ احساس مکمل طور پر ایک شفاف، قواعد و ضوابط پر مبنی غیر سیاسی پروگرام ہے، اس پروگرام میں صوبہ سندھ کا حصہ سب سے زیادہ ہے جو اس پروگرام کے غیر سیاسی ہونے کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کے احساس کیش کو پسماندہ افراد تک پہنچانے کیلئے گزشتہ سال کے دوران احساس حکمت عملی کے تحت ڈیجیٹل طریقہ کار تشکیل دیا گیا۔ ایس ایم ایس شارٹ کوڈ سروس کے ذریعہ درخواستیں طلب کی گئیں، اعدادوشمارکے تجزیات، اہل قومی شناختی کارڈ نمبروں کے استعمال اور قومی سماجی اقتصادی رجسٹری اور دولت کی پراکسی (سفر، ٹیکس، اثاثوں کے مالکانہ اعدادوشمار اور سرکاری ملازمت کی حیثیت) اور ادائیگیوں کی بائیو میٹرک تصدیق کی گئی بائیو میڑک کی تصدیق کے مسائل اور وفات پانے والے اہل مستحقین کے لواحقین کے خاندانوں کو ادائیگیوں کرنا بڑا چیلنج تھا۔
انہوں نے کہا کہ بائیو میٹرک مشکلات کے باعث مستحق افراد میں ادائیگیوں کو یقینی بنانے کیلئے احساس نے متبادل طریقہ کار کا حل پیش کیا، اب ایسے مستحق افراد کو بائیو میٹرک تصدیق کے بغیر شراکت دار بینکوں کی مخصوص بینک شاخوں میں خصوصی طور پر ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفات پا جانے والے مستحق افراد کے لواحقین کیلئے ادائیگی کے عمل کو آسان بنانے کے لئے اپیل کا طریقہ کار وضع کر دیا ہے، اب وفات پانے والے مستحق افراد کے لواحقین ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے نام پر احساس دفتر اسلام آباد کنبہ کے ممبر کی تفصیلات سمیت درخواستیں بھیجیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 8 جولائی 2020ء کو احساس نے احساس ایمرجنسی کیش پورٹل کا اجراء کیا تاکہ احساس ایمرجنسی کیش کے ساتھ رجسٹرڈ لوگوں کو ان کی اہلیت کو جانچنے کیلئے آسان راستہ فراہم کریں۔ وہ تمام درخواست دہندگان جنہوں نے 8171 یا وزیراعظم کے لیبر پورٹل کے ذریعے اپنا اندارج کرایا ہے وہ اب پورٹل پر اپنا شناختی کارڈ نمبر درج کرکے آسانی سے اپنی اہلیت کی حیثیت کی جانچ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اہل ہیں تو وہ اپنے قریبی احساس ادائیگی مراکز سے اپنی نقد رقم وصول کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک پورے ملک بھر میں احساس ایمرجنسی کیش کے تحت ایک کروڑ 28 لاکھ 63 ہزار سے زائد محنت کش افراد میں 155 ارب 64 کروڑ روپے سے زائد کی امدادی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں